بدین: پاکستان فشر فوک فورم کے ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایوانِ صحافت بدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تنظیم میں اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

احتجاج اور پریس کانفرنس میں پاکستان فشر فوک فورم ضلع بدین کے صدر حاجی نبی بخش ملاح، مٹھن ملاح، عبدالرحیم چنڈانی، محمد عمر ملاح، محمد قاسم بچو، سومار لوہار اور دیگر نے شرکت کی۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان فشر فوک فورم کے سابق چیئرمین سید محمد علی شاہ کے انتقال کے بعد ماہی گیر نمائندوں نے سید مہران علی شاہ کو تنظیم کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ ان کے مطابق سید مہران علی شاہ ماہی گیروں کے مسائل پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فورم کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت تنظیم کو کمزور کرنے اور اس میں گروپ بندی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے فاطمہ مجید اور مصطفیٰ میرانی پر ماہی گیروں کے درمیان الگ گروپ بنانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

پریس کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ وہ سید مہران علی شاہ اور پاکستان فشر فوک فورم کے سابق چیئرمین سید محمد علی شاہ کی صاحبزادی یاسمین شاہ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے سندھ کے ماہی گیروں کے مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے شاہ خاندان کی خدمات کو بھی سراہا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فشر فوک فورم کو کمزور کرنے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی مبینہ کوششیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوششوں کے نتیجے میں ماہی گیری کے شعبے میں ٹھیکیداری نظام دوبارہ لانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرِ فشریز سے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں کے نام پر حاصل ہونے والے وسائل صرف ماہی گیر برادری کی فلاح و ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں۔

رہنماؤں نے ماہی گیروں کے لیے مختص وسائل اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے فنڈز کا شفاف اور آزادانہ آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ تنظیم یا ماہی گیروں کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔