آبنائے ہرمز کے حوالے سے سفارتی پیش رفت کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں کیونکہ مذاکرات کو نئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اضافی شرائط پیش کی ہیں، جن میں خاص طور پر ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ علاقائی کشیدگی کے دوران ضائع ہونے والی جانوں کا مالی معاوضہ ادا کرے۔ یہ پیش رفت سمندری حملوں کے ایک سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے جس نے سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک ان کی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔ یہ سخت موقف بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ جیسے جیسے صورتحال آگے بڑھ رہی ہے، بندش کے معاشی اثرات عالمی توانائی کی سلامتی پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی واقعات اور بدلتے ہوئے سیاسی مطالبات نے ایک غیر مستحکم ماحول پیدا کر دیا ہے، جس سے قریبی مستقبل میں آبنائے سے معمول کی نقل و حمل کی بحالی مشکل ہو گئی ہے۔