حکومت پاکستان نے مقبوضہ ویسٹ بینک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں باضابطہ انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دو ریاستی حل کا امکان ایک خطرناک موڑ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ جائزہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیش کیا گیا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری بحران امن کوششوں کی طویل مدتی افادیت کے لیے خطرہ ہے۔ موجودہ حالات کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے، پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نوٹس لے۔ یہ بیان اس معاملے پر پاکستان کے مستقل سفارتی موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اگر تنازعہ کی موجودہ رفتار بلا روک ٹوک جاری رہی تو دو ریاستی ڈھانچہ منہدم ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایک ایسے حل کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہے جو بین الاقوامی اصولوں کا احترام کرے اور خطے کو متاثر کرنے والے بنیادی مسائل کو حل کرے۔ کسی مخصوص نئی پالیسی اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن یہ سفارتی مواصلات بحران سے نمٹنے کے لیے نئی عالمی مصروفیت کے مطالبے کے طور پر کام کرتی ہے۔