اقوام متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں فی الحال ثانوی اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال ملک میں طالبان کے قبضے کے پانچ سال بعد بھی برقرار ہے۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی ایک مرکزی مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس سے لاکھوں نوجوان خواتین کا مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اکثر رسمی اسکولنگ تک رسائی نہ ہونے کو ایک بڑی تشویش کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ موجودہ پالیسی نے مؤثر طریقے سے لڑکیوں کی ایک نسل کو پرائمری سطح سے آگے اپنی تعلیمی ترقی جاری رکھنے سے روک دیا ہے۔ خاندانوں اور طلباء نے اس صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور اس تعلیمی محرومی کے طویل مدتی نتائج کی نشاندہی کی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی برادری پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کی بحالی میں پیش رفت کا نہ ہونا ایک متنازعہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے نتائج بحران کی وسعت کو اجاگر کرتے ہیں، جو افغان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے اور معاشرے میں ان کی شرکت کو روک رہا ہے۔
دنیا
اقوام متحدہ کی رپورٹ: طالبان کے قبضے کے 5 سال بعد 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم
طالبان کے اقتدار میں واپسی کے پانچ سال بعد، اقوام متحدہ نے رپورٹ دی ہے کہ 24 لاکھ افغان لڑکیاں اب بھی ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، جو تعلیم تک رسائی کے سنگین بحران کو ظاہر کرتا ہے۔

